باری[3]
قسم کلام: اسم معرفہ
معنی
١ - بیاس اور راوی کے درمیان کا میدانی علاقہ۔ "باری دواآب دریائے بیاس اور دریائے راوی کے درمیان میں ہے۔" ( ١٨٨٣ء، جغرافیۂ گیتی، ١٩:٢ )
اشتقاق
اردو زبان بولنے والوں کی طرف سے ایک خاص علاقے کو دیا گیا نام ہے۔ مقامیت کی وجہ سے یہ لفظ زبان کا حصہ بن چکا ہے اور اردو میں عام بول چال میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٨٣ء میں "جغرافیۂ گیتی" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - بیاس اور راوی کے درمیان کا میدانی علاقہ۔ "باری دواآب دریائے بیاس اور دریائے راوی کے درمیان میں ہے۔" ( ١٨٨٣ء، جغرافیۂ گیتی، ١٩:٢ )
جنس: مذکر